عیدالفطر مبارک
تین عد د طنزو مزاح سے بھرپور اسکرین پلے اس کتاب میں موجود ہیں۔
عیدی چائنا کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(خُلاصہ)
ہاشم ایک درمیانے درجے کا بزنس مین ہے، ہر وقت ہنستا مسکراتا رہتا ہے، اور ا س کی بیوی شگفتہ صرف نام کی شگفتہ ہے،زبان کی تیز طرّار ہے، ہاشم کی والدہ سے اس کی سرد جنگ گزشتہ چوبیس سالوں سے جاری ہے، نہ شگفتہ کم ہے اور نہ ہاشم کی والدہ زہرہ، ہار ماننے والی ہے، اس سرد جنگ سے ہاشم بجائے پریشان ہونے کے لُفت اندوز ہوتا رہتا ہے۔
ہاشم کا بیٹا راحیل ہے، اسے باپ کے بزنس سے کوئی سروکار نہیں ہے، والدین کے زور دینے پر پڑہائی کررہا ہے، گھر کے جھگڑوں سے دُور، بے فکری سے سارا دن فیس بُک پر لگا رہتا ہے، آج کل اس کی دوستی فیس بُک پر ایک چائنس لڑکی سے ہوگئی ہے، یہ دوستی اب چاہت اور محبت میں ڈھلنے لگی ہے۔۔۔ اور یہ چائنس لڑکی اس عید پر راحیل کے گھر آرہی ہے۔۔۔۔
یہ چائنس لڑکی ثوبیہ ہے، مسلمان ہے، والد انڈین مسلم تھے، چائنا میں ملازمت کرلی تھی، وہاں ثوبیہ کی والدہ سے شادی کرلی تھی جو کہ چائینس تھی۔ ثوبیہ بھی مکمل چائنس ہے، والد سے اُردو سیکھ لی تھی تو کافی حد تک چائنس لہجے میں اُردو بول لیتی ہے۔ فیس بُک پر بدھُو راحیل سے پیار ہوجاتا ہے تو وہ اس پیار کے چکر میں کراچی، راحیل کے گھر آرہی ہے۔
ثوبیہ کے آنے پر، شگفتہ اور زہرہ اس بچاری کا جو حال کرتیں ہیں،یقین کریں آپ اپنے قہقہے روک ہی نہیں سکتے، ثوبیہ کے ماں باپ انتقال کر چکے ہیں خاص طور پر ماں کی کمی کا اسے خاص احساس ہورہوتا ہے، شگفتہ میں اسے اپنی ماں کی پرچھائی نظر آتی ہے، وہ شگفتہ کو جب ماں کہتی ہے تو شگفتہ کو بھی ایک بیٹی کی کمی کا احساس سا ہونے لگتا ہے، یوں شگفتہ کی حد تک معاملہ ٹھیک ہوتا ہے، مگر زہرہ اسے سانپ اور بچھو کھانے والی سمجھ کر اسے چھپکلی کھانے مشورہ دیتی ہے، مگر ثوبیہ آہستہ آہستہ زہرہ کے دل میں بھی جگہ بنا لیتی ہے، اسے میں جب راحیل، ثوبیہ سے شادی کرنے کا کہتا ہے تو پھر تو جیسے اس گھر میں بُھونچال سا آجاتا ہے۔
یہاں اس مقام پر زہرہ اور شگفتہ اکھٹی ہو جاتیں ہیں، اور صاف انکار کردیتیں ہیں کہ ہماری تہذیب اور تمدّن کا کافی فرق ہے۔ راحیل، ہاشم کو یہ لالچ دیتا ہے کہ اگر وہ اس کی شادی ثوبیہ سے کرادے تو وہ ان کے بزنس میں ان کا ساتھ دے گا۔
اب ایک طرف راحیل اور ہاشم ہیں اور دوسری طرف شگفتہ اور زہرہ۔۔۔ گھر میں پانی پت کی لڑائی کا ماحول بن جاتا ہے۔ اس صورت حال پر ثوبیہ، تمام گھر والوں کو کہتی ہے کہ اس کی وجہ سے آپ لوگ آپس مت لڑیں، میں واپس چائنا جارہی ہوں۔اس پر راحیل بھی چائنا جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے، مگر ثوبیہ اسے روک دیتی ہے اور خود اکیلی ہی ائرپورٹ کیلئے جاتی ہے۔
ثوبیہ کے جاتے ہی گھر کا ماحول سوگوار سا ہو جاتا ہے، سب کو ثوبیہ کی باتیں وغیرہ یاد آنے لگتی ہیں، کیسے وہ نماز، روزہ اور قرآن کی تلاوت زہرہ اور شگفتہ سے سیکھ رہی تھی، اب وہ انھیں احساس ہوتا ہے کہ وہ ان سب کی خوشی کی خاطر اپنی محبت کی قربانی د ے کر چائنا جارہی ہے۔۔۔ یہ احساس جاگتے ہی یہ سب ائرپورٹ کی طرف جاتے ہیں تاکہ وہ ثوبیہ کو روک سکیں، مگر فلائٹ نکل جاتی ہے، یہ لوگ مایوس سے واپس آتے ہیں تو گھر میں ثوبیہ،زہرہ کے پاس بیٹھی ہوئی ملتی ہے، پتا چلتا ہے کہ ثوبیہ ان سب کیلئے چائنا سے عید کے گفٹ لائی تھی وہ دینا بھول گئی تھی، بس وہ دینے آئی تھی اور زہرہ نے روک لیا تھا۔
ثوبیہ ان سب کو چائنا کے گفٹ دیتی ہے، تو شگفتہ اور زہرہ ایک ساتھ ثوبیہ کے گفٹ کو دیکھ کر کہتیں ہیں۔۔۔ عیدی چائنا کی۔
یہ تھا اس ٹیلی فلم کا خُلاصہ۔۔۔ اب دیکھیں مکمل اسکرین پلے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔